18 مارچ 2010 - 20:30

بلوائیوں نے امام حسین علیہ السلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے؛ علم و پرچم نذر آتش کئے اور ایک مقام پر انھوں نے قرآن مجید کو آگ لگا کر سامنے سے آنے والے ماتمی جلوس کی طرف پھینک دیا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد تنظیم ایم کے او کے بعض عناصر کو تہران میں عاشور کے دن ہونے والے واقعات کے حوالے سے گرفتارکیاگیاہے۔

قابل ذکر ہے کہ یوم عاشور کو کچھ بلوائیوں نے بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ اور ویب سائٹوں کی ہدایت پرچند گھنٹوں تک تہران میں نظم ونسق کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جسے عزاداروں اور پولیس کی مدد سے ناکام بنادیاگيا۔

بلوائیوں نے بعض سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

درایں اثنا تہران کے پولیس ہیڈکوارٹرز نے عزاداروں کی حمایت کوسراہتے ہوئے، عاشورکےدن رونما ہونےوالے واقعات کی وضاحت کی ہے۔

تہران پولیس کے ہیڈکوارٹرز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افسوس کہ معدودےچند فسادیوں نے پہلے سے طےشدہ پروگرام اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے اکسانے پر بعض سڑکوں اور جلوس عزاکے راستوں پر نکل کر گمراہ کن نعرے بازی کی اور نظم وضبط میں خلل پیداکیا۔

اس بیان میں آيا ہے کہ پولیس کوجو نظم ونسق برقرارکرنے اوریوم عاشورکا تقدس برقراررکھنےکی کوشش کررہی تھی  بلوائیوں کے حملےکا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں کئی پولیس  اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس ہیڈکوارٹر کے بیان کے مطابق افسوس کہ ان  واقعات میں پانچ افراد کو مشکوک طورپراپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑااور کچہ لوگ زخمی ہوگئے۔

مرنے والوں میں سے ایک کو پل سے نیچے گرادیا گیا ہے اور پل کے اوپر بلوائیوں کے سوا کوئی نہ تھا؛ دو کو ایک گاڑی نے ٹکر مار کر قتل کردیا ہے جبکہ ایک شخص ـ جسے بیرونی ذرائع ابلاغ نے میرحسین موسوی کا بھانجا قرار دیا ہے ـ گولی کھا کر ہلاک ہوگیا ہے. پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص ایک ہزار کے لگ بھگ بلوائی عناصر کے بیچ موجود تھا اور اس کا قتل پہلے سے طی شدہ منصوبے کے تحت ٹارگٹ کرکے مارا گیا ہے تا کہ بلؤوں کو نیا رخ دیا جاسکے.

تہران پولیس چیف نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پولیس اہلکار ہتھیاروں سے لیس نہیں تھے اور پولیس و سیکورٹی فورسز کی طرف سے گولی نہیں چلی ہے چنانچہ موسوی کے بھانجے کا قتل مشکوک ہے اسی لئے اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے رکھی گئی ہے جبکہ ماہرین مشکوک عناصر کی شناخت کی کوشش کررہے ہيں ۔پولیس ہیڈکوارٹر کے بیان میں عزاداران حسین علیہ السلام کی جانب سے  پولیس میں موجود اپنے جوانوں کی حمایت ومدد کوسراہاگیاہے جو فتنے کوناکام بنانے کی کوشش  کررہے تھے ۔

یاد رہے کہ تہران کی بعض سڑکوں پر بلوائیوں نے عوام کی عاشورا کے مراسمات میں مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف امام حسین علیہ السلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے اور علم و پرچم نذر آتش کئے بلکہ ایک مقام پر انھوں نے قرآن مجید کو آگ لگا کر سامنے سے آنے والے ماتمی جلوس کی طرف پھینک دیا.

مزید:

عاشورہ کے جلوس ميں گڑبڑپھیلانےوالوں کوسزادی جائے